یاد رکھنا وقت لوٹ کر بھی آتا ہے

 BN-OG228_0531pa_P_20160531100853

اس بات سے قطع نظر کہ اس وقت وزیراعظم کون ہے اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم کا کچھ ہی دن پہلے اپریشن ہوا ہے اور مخالفین نے اس قدر گرد اڑائی کہ انہیں آرام کا موقع بھی نہ مل سکا وہ آج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب ان کی جگہ کوئی اور وزیراعظم ہوگا تو اسے بھی لگ بھگ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پھر کس کے دل میں رحم ہوگا اور کون بے چارگی کی تصویر
وزیراعظم کو مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ بیماری کی حالت میں اپنا دفاع کریں اگر وہ اس دوران جان سے گزر گئے تو پھر لیافت علی خان اور بھٹو کے بعد ایک اور “قتل” ہوگا جس کے ذمہ دار سبھی ہونگے

Share This:

نام نہاد ترجمان

sawal-yeh-hai-dr-danish[1]

ڈاکٹر دانش اینکروں کے اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جس کے سرخیل ڈاکٹر شاہد مسعود ہیں اگر آپ ٹوئٹر پر ڈاکٹر دانش کو فالو کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ ملک میں عدلیہ کے تعاون سے مارشل لاء لگا دیا جائے اور شریف قسم کے سیاستدانوں کے تعاون سے ایک حکومت قائم کردی جائے جس کا دورانیہ کم ازکم پندرہ سال ہو۔ ڈاکٹر شاہد مسعود بھی مسلسل اسی قسم کی باتیں کررہے ہیں۔
اس سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے 35 پنکچروں کی بات کی تھی اور بعد میں مکر گئے تھے کہ اس قسم کی بات ہوئی تھی اب وہ ایکبار پھر اسی اینجنڈے پر عمل پیرا ہیں کہ کسی طور نواز حکومت ختم کردی جائے۔ خدا جانے ہم کب تک ۔۔۔ نکلیں گے مقتدر اداروں کو سیاسیت میں ملوث ہونے کی دعوت دینے والے نام نہاد ترجمان ملک کی کوئی خدمت نہیں کررہے۔ یہ میڈیائی دہشت گرد ہیں جو پاکستان کی بنیادوں کو کھود رہے ہیں انہوں نے شرم و حیا ایک طرف رکھ دی ہے اور لفافہ جرنلزم کے سرخیل بن چکے ہیں

Share This:

پاکستان فرسٹ

1364832249_123[1]

لگتا ہے ہمارے ملک میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں ہمارے وزیراعظم جس ملک کا دورہ کرتے ہیں  چیف بھی اس کے فوراً بعد پہنچ جاتے ہیں

پاکستان اس وقت بہت نازک دور سے گزر رہا ہے دہشت گردی خاتمے کے قریب ہے کراچی میں الطاف حسین کا ڈنک نکال دیا گیا ہے اور انڈیا اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے میں گرا ہوا ہے ایسے میں جب راوی ہرطرف چین ہی چین لکھ رہا ہے تو ایڈنچر ازم ہمیں ایک بار پھر ماضی کی طرف نہ دھکیل دے

نوازشریف کی بدقسمتی ہے کہ اسے کبھی بھی پانچ سال پورے نہیں کرنے دیے گئے شاید اس خوف سے کہ کہیں لوگ جمہوریت کے عادی نہ ہوجائیں صدر زردای کے دور میں بھی پوری کوشش کی گئی کہ وہ اپنا دور پورا نہ کرسکیں لیکن بوجوہ ایسا نہ ہوسکا لیکن اس بار کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کب کیا ہوجائے اگر اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ نواز شریف اپنا دور نہ گزاریں تو پھر نہیں گزاریں گے چاہے پاکستان میں سارے مسائل ایک ساتھ ختم کیوں نہ ہوجائیں ۔

ایک بات یاد رکھیں کہ اس وقت اگر کوئی ملک کو سنبھال سکتا ہے تو وہ سیاسی دور ہی ہے ورنہ مشرف کے دور میں کیا کچھ نہیں ہوا اب طالبان کا وقت ختم ہوچکا اور امریکہ فی الحال کسی نئے ایڈونچر کے موڈ میں نہیں تو ہم کس طرح پرانا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں ایک طاقت ور میڈیا کے ہوتے اور جوڈیشری کے ہوتے سوائے اپنی ساکھ کو خراب کرنے کے ہم کیا حاصل کرلیں گے

Share This:

غلط سلط تصویریں

facebook-tagging[1]

چند دن پہلے ایک صاحب ملنے آئے چہرے سے پریشان اور شرمندہ شرمندہ سے لگ رہے تھے پوچھنے پر بتایا کہ ایک مصیبت میں گھر گیا ہوں میرے فیس بک اکاونٹ سے میرے دوستوں کو غلط سلط تصاویر دکھائی جا رہی ہیں اس کے مزید کچھ کہنے سے قبل ہی میں اس کی بات کی تہہ کو پہنچ گیا اور اسے صرف اتنا کہا کہ کچھ دیکھنے سے احتیاط کیا کرو تمھاری حرکتیں لوگوں کے علاوہ فیس بک کی بھی نظر ہوتی ہے ۔ اس کے فیس بک اکاونٹ پر گویا شیطانوں کا قبضہ تھا اور اس کی پریشانی بجا تھی  کئی لوگ اسے ٹیگ کرکے تصویریں شیئر کررہے تھے ۔ تقریباً آدھ گھنٹے کی محنت نے اس کے اکاونٹ کو “حلال” کردیا اب وہ دوبارہ “حاجی “صاحب ہوگئے ہیں

Share This:

فیس بک اسٹیٹس

APTOPIX_PAKISTAN_PRO_24434f[1]

کسی چینل پر شاہد مسعود پیر پگارا بنے آئندہ ہونے والے واقعات کےوقوع پزیر ہونے کا بتا رہے ہوتے ہیں تو کسی چینل پر حسن نثار جیسے “دانشور” اخلاقیات کا جنازہ نکال رہے ہوتے ہیں کسی ایک کونے سے ڈاکٹر دانش اپنے موتی بکھیر رہے ہوتے ہیں ان سب کا مطمع نظر یہ ہوتا ہے کہ سیاست دان بالکل کرپٹ اور وطن فروش ہیں اور اگر کچھ اچھا بھی ہورہاہے تو وہ کسی “اور” طرف سے ہورہا ہے اور جو گند ہے وہ سیاست دان بکھیر رہے ہیں ۔ ان کی گفتگو سن کر یوں لگتا ہے جیسے ملک میں اندھیر نگری مچی ہوئی ہے قانون کا کہیں نام و نشان نہیں ہے اور اگر کہیں ملک میں کوئی “کام” ہو رہا ہے تو وہ اتفاق فاونڈری کا سریا کررہا ہے۔ ان کو شاید نہیں پتا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور انہیں کچھ سوچنے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ یہ “پیڈ “صحافی ہیں

Share This:

الزامات بمقابلہ کارکردگی

chess[1]

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ن لیگ کی پوزیشن بہت مضبوط ہوگئی ہے اور وہ سارے وسوسے جو مختلف چینلز نے لوگوں کے سامنے پیش کئے تھے ان کا کسی حد تک خاتمہ ہوگیا ہے کہ تحریک انصاف ن لیگ کو بہت ٹف ٹائم دے گی وغیرہ وغیرہ۔

دھرنوں کے بعد سے ن لیگ مسلسل پی ٹی آئی کے مقابلے میں جتتی آرہی ہے  اس کی ایک بنیادی وجہ ہے جس پر پی ٹی آئی توجہ ہی نہیں دے رہی کہ الزامات در الزامات کی سیاست ایک وقت تک اچھی لگتی ہے  جبکہ پرفارمنس ایک ایسی کنجی ہے جو مسلسل دینے سے بند دروازے بھی کھولتی جاتی ہے ۔ عمران خان صاحب اپنے صوبے کی گورننس پر توجہ دینے کے بجائے الزامات کے زریعے نوازشریف کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں تو موجودہ حالات میں انہیں سمجھ جانا چاہئے کہ یہ پلاننگ مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور اس سے انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔ کیونکہ نوازشریف  صرف ایک نام نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے وفاق کی طاقت ہے  جو اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے وہ میڈیا کو بھی خرید سکتے ہیں الیکشن کمشن کو بھی اور انتظامی معاملات کو بھی ۔ الیکشن ہوئے ڈھائی سال سے  زیادہ ہوگئے ہیں اور ہم ابھی تک تھیلوں میں سے ثبوت دیکھتے پھر رہے ہیں اگر ثبوت ہیں بھی تو وکٹ پر کچے کھلاڑی موجود نہیں بلکہ ایک پورا پراسیس اس کی “دیکھ بھال” کے لیے موجود ہے خان صاحب کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر انتخابی اصلاحات کو ٹھیک کریں ، ن لیگ بھی اس مرحلے سے گزر چکی ہے جب مشرف نے ان کی پارٹی کو یرغمال بنا کر ق لیگ کی بنیاد رکھی تھی  اگر دونوں طرف سے خواہش ہوتو اس پر عملی جامہ پہنانے میں دیر نہیں کرنی چاہئے ۔

اکر کسی کے دل میں خیال ہے کہ صرف کہنے سے کوئی کرپٹ ہوجائے گا یا لوگ ووٹ دینے سے رک جائیں گے تو پچھلی مشق اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے شہباز شریف نے یہ جو اتنے مہنگے مہنگے منصوبے شروع کررکھے وہ محض الزامات سے ختم نہیں ہو سکتے  جب تک آپ بہتر پرفارمنس دے کر اسے ثابت نہیں کردیتے آپ کےلیے میدان بھی حاضر ہے اور گھوڑا بھی ان دوڈھائی سال میں کوئی آپ کو گرا بھی نہیں سکتا کیونکہ وفاق نے آپ کے لیے میدان کھلا چھوڑ رکھا ہے اگر یہ دن بھی ایسے ہی گزر گئے اور اگلے انتخابات سر پر آگئے تو کوئی آپ کی بات پر یقین نہیں کرے گا کہ فلاں پاکستان کا کرپٹ ترین انسان ہے تب صوبے کی پرفارمنس بولے گی کہ آپ نے کیا کیا نئے پاکستان کی جھلک تو دکھائی دینی چاہیے اگر آپ جھلک بھی نہ دکھلاسکے تو اگلا الیکشن بھی ہاتھ سے نکل جائے گاجو کہ آپ کے سپورٹرز پر بجلی گرنے سے کم نہیں ہوگا

 

Share This:

لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال

india_ss3[1]

شروع میں مودی حکومت نے پاکستان کو خاصہ پریشان کیا لیکن حالیہ دنوں میں جب مودی سرکار نے پے در پے سرگرمیاں دکھائیں اور شیوسنا نے جس برتاؤ کا مظاہرہ کیا تو لگ رہا ہے کہ انڈیا نے دنیا کے سامنے جو چہرہ (شائننگ انڈیا) دکھایا تھا اور وہ کافی حد تک دھندلا گیا ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو یا تو مودی کو اپنی حکومت ختم کرنی پڑے گی یا ایک تحریک کے زریعے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوجائیں گے ایک تیسرا راستہ بھی ہے کہ مودی سرکار بیک فٹ پر چلی جائے اگر ہم دنیا سے توقع رکھتےہیں کہ وہ انڈیا کی مخالفت پر اتر آئے گی تو یہ خام خیالی ہوگی جس طرح انڈیا کو شائننگ انڈیا کی امیج بنانے میں برسوں لگے اسی طرح دنیا ایک ممکنہ عالمی منڈی کو اپنے ہاتھوں سےنہیں جانے دے گی۔ دوسری طرف پاکستان جب تک دنیا کے سامنے اپنا امیج بہتر نہیں کرتا تب تک انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی حمایت بھی محض خیال ہی ہوگا اس کے لیے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے۔

 

Share This:

تقسیم در تقسیم

259944_86364977[1]

نیشنل ایکشن پلان کا رخ سیاست کی طرف موڑ دیا گیا ہے اس دوران دہشت گردی کی کاروائیاں بند ہونے کو دہشت گردی ختم ہونے کا اشارہ سمجھ لیا گیا۔ بارڈر پر بھارتی جارحیت مسلسل جاری ہے انڈیا ہمارے شہریوں کو مار کر اپنا حدف پورا کررہا ہے ہم نے چومکھی شروع کررکھی ہے کسی ایک ہدف پر فوکس نہیں ہیں بدقسمتی سے جب بھی ملک میں امن ہوتا ہے ہم کسی نہ کسی بند فائل کو کھول کر بیٹھ جاتے ہیں امن کہیں رہ جاتا ہے اور ہم ایکدوسرے کی ٹانگیں کھینچنا شروع کردیتے ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پوری قوم ایک صفحے پر ہوتی ہم نے برصغیر کی طرح سرحدیں کھینچ لی ہیں اہل سیاست ایک طرف اور اسٹیبلشمنٹ ایک طرف، پیغام یہ کہ پوری قوم ایک صفحے پر لیکن اندر ہی اندر تقسیم در تقسیم۔

62717537_hi015887720[1]

Share This:

قومی ذمہ داری

shutterstock_81985588-350x249[1]

کچھ دن پہلے ایک شناسا سے اچانک ملاقات ہوگئی بہ اصرار وہ ہمیں اپنے ہاں مہمان خانے لے گئے خاطر مدارات کی اور ہم اس دوران ٹی وی سے لطف اندوز ہوتے رہے، پاکستان میں انڈین چینلز چونکہ بند ہیں اس لئے ہم بہت اشتیاق سے چینلز سرفنگ کرتے رہے، میزبان نے ہمارے انہماک کو دیکھتے ہوئے وہ چینلز لگا کردیے دئے جن کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے ہم نے انہیں ٹوکا کہ یہ کیا ہے کیا انہیں بھی سیٹلائٹ کے زریعے دیکھا جاسکتا ہے تو انہوں نے جو معلومات دیں انہیں یہاں تحریر نہیں کیا جاسکتا۔
ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ برہنہ ویب سائیٹس پاکستان میں بین ہیں اور سوائے پراکسی کے انہیں نہیں دیکھا جاسکتا لیکن یہاں سیٹلائٹ کے زریعے نہ صرف دیکھا جاسکتا ہے بلکہ پوری کی پوری ورائٹی ہی دستیاب تھی۔
کبھی پی ٹی اے نے اس طرف توجہ دی کہ کوئی ہماری ناک کے نیچے نقب لگا رہا ہے، یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے اسے بے نقاب کرنا ہمارا دینی اور سماجی ذمہ داری ہے، چند لوگ چند پیسوں کی خاطر پاکستانی عوام کی نبضوں سے کھیل رہے ہیں انہیں سیکس کا عادی کررہے ہیں بچے ملک کا مستقبل ہوتے ہیں انہیں اس لت میں لگانا کہاں کی انسانیت اور کہاں کا اصول ہے، والدین کو بھی سوچنا چاہئے کہ آپ جتنا بچوں سے انہیں چھپائیں یہ کبھی نہ کبھی نوشتہ دیوار بن کر آپ کے سامنے آجائے گا پھر آپ کسے اس بات کا ذمہ دار گردانیں گے؟

Share This:

اردو بطور سرکاری زبان

aKrJJ2Q9_400x400[1]

سپریم کورٹ نے تین ماہ کے اندر اردو کو دفتری اور سرکاری طور پر نافذ کرنے کا حکم صادر کیا ہے  بلاشبہ یہ ایک عوامی مطالبہ تھا جس پر سپریم کورٹ نے لبیک کہا ہے ۔ اگر یہ حکم بیوروکریسی کی نظر ہوگیا تو اسے نافذ ہونے میں بہت سا وقت برباد ہوسکتا ہے لیکن اس حکم نامے سے اب انحراف نہیں کیا جاسکتا ۔

تاریخ گواہ ہے کہ جس نعرے کو عوامی حمایت بھی حاصل ہو اور حکومت بھی راضی ہو اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، پاکستان بننے کے بعد یہ پاکستانیت کا طرف پہلاقدم ہے جو بہت دیر سے اٹھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا اور ویب ٹیکنالوجی میں اردو پر بہت عرصے سے کام جاری ہے اور بتدریج ترقی کی منازل طے کرتا جارہا ہے اور آج ہم فخر سے کہ سکتے ہیں کہ اردو کو نافذ ہونے میں آدھا کام پورا ہوچکا ہے، بقیہ کام یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے اندر سے اردو کے خلاف نفرت کوفراموش کرکے  انگریز کی غلامی کا طوق اتار پھینکیں۔

Share This: